محسن نقوی کی اردو شاعری-Urdu poetry Mohsin Naqvi 2022

محسن نقوی کے بغیر اردو غزل کی صنف کا تعارف مکمل نہیں ہوسکتا۔ وہ ایک غزل گو شاعر تھا جس نے محبت ، فلسفہ اور اہل بیت کی صنف میں مہارت حاصل کی اور اپنے منفرد انداز میں عبور حاصل کیا۔ محسن نقوی کی شاعری آپ کو بے حد آرام و سکون بخشتی ہے اور دل کو متبرک الفاظ سے راحت بخش کرتی ہے۔
یہاں ان غزلوں میں آپ کو ان کی بہترین شاعری مل سکتی ہیں۔

1. اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو

اتنے خائف کیوں رہتے ہو
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو

تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو

کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو

میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو

کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو

پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو

جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو

اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو

کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو

رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو

ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو

محسنؔ تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو.

2. اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا

اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
دل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیسا

کاش دنیا مرے احساس کو واپس کر دے
خامشی کا وہی انداز صداؤں جیسا

پاس رہ کر بھی ہمیشہ وہ بہت دور ملا
اس کا انداز تغافل تھا خداؤں جیسا

کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احساس‌ مآل
پھول کھل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا

کیا قیامت ہے کہ دنیا اسے سردار کہے
جس کا انداز سخن بھی ہو گداؤں جیسا

پھر تری یاد کے موسم نے جگائے محشر
پھر مرے دل میں اٹھا شور ہواؤں جیسا

بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔ
اس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا

3. ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی

اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی

مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی

سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی

تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید
سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی

محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل
درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی

4. میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا

میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا

اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا

میں ڈھونڈھتا تھا دور خلاؤں میں ایک جسم
چہروں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا

تم خوش تھے پتھروں کو خدا جان کے مگر
مجھ کو یقین ہے وہ تمہارا قیاس تھا

بخشا ہے جس نے روح کو زخموں کا پیرہن
محسنؔ وہ شخص کتنا طبیعت شناس تھا

5. میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا

میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا

یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا

ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا

وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا

اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثر
کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا

تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی
زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا

بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری
میں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا

بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ
اس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا

ہماری ویب سائٹ  پر مختلف عنوانات پر مزید معلومات حاصل کریں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Advertising

Recent Posts