تجارت کی انمول داستان

عرب میں ہر سال جو مشہور تجارتی میلے منعقد ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنا سامان تجارت ان میلوں میں لے جایا کرتے آپ کی دیانتداری کی بنا پر آپ کا سامان میلے میں آتے ہی ہاتھوں ہاتھ بک جاتا۔ ایک دفعہ ایک میلے میں آپ بیس اونٹ لائے مگر اسی وقت کسی کام سے باہر جانا پڑ گیا تو اپنے غلام کو تاکید کرگئے کہ ان اونٹوں میں سے ایک لنگڑا ہے اس کی نصف قیمت وصول کی جائے۔

فارغ ہوکر آپ واپس تشریف لائے تو اونٹ فروخت ہوچکے تھے۔ غلام سے دریافت کیا تو اس نے معذرت کی کہ مجھے خریداروں کو لنگڑے اونٹ کی بابت بتانا یاد نہ رہا اور میں نے اس کی بھی پوری قیمت وصول کرلی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریداروں کا اَتا پَتا دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ وہ یمن کی طرف سے آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے پر بڑا ملال تھا فورا غلام کو ساتھ لیا اور گھوڑے پر سوار ہوکر ان کی تلاش میں چل دئیے ایک دن اور ایک رات کی مسافت طے کرنے کے بعد ان کو پالیا اور ان سے پوچھا کہ تم نے یہ اونٹ کہاں سے خریدے ہیں وہ بولے کہ ہمارے مالک نے ہمیں یمن سے میلے میں محمد بن عبد اللہ کے تمام اونٹ خریدنے کے لیے بھیجا تھا اور تاکید کی تھی کہ اس کے سوا کسی اور سے کچھ سامان نہ خریدنا ہم وہاں تین دن تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کو تلاش کرتے رہے آخر تین دن کے بعد ان کا مال منڈی میں آیا تو ہم نے اطلاع پاتے ہی خرید لیا۔

آپ نے فرمایا بھائیو ! ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ لنگڑا ہے سوادا کرتے ہوئے میرا ملازم بتانا بھول گیا اب وہ اونٹ مجھے دے دو اور اس کی قیمت واپس لے لو یا پھر اس کی آدھی قیمت مجھ سے وصول کر لو۔ اتفاق سے ابھی تک انہیں اونٹ کے لنگڑے پن کا علم نہ ہوا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ اونٹ دیکھتے ہی فورا پہچان لیا او روہ اونٹ ان سے لیکر اس کی قیمت واپس کردی۔

بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو انہوں نے کہا ہم تو پہلے ہی سوچتے تھے کہ ایسا شخص کوئی معمولی آدمی نہیں ہوسکتا فورا خدمت اقدس میں پہنچے اور شرف اسلام سے بہرہ مند ہوگئے

ہماری ویب سائٹ  https://viralpomus.com/ پر مختلف عنوانات پر مزید معلومات حاصل کریں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Advertising

Recent Posts